حدیث نمبر: 10646
١٠٦٤٦ - حدثنا حفص بن غياث عن الضحاك بن عثمان عن نافع عن ابن عمر قال: فرض رسول اللَّه ﷺ صدقة الفطر (صاعًا) (١) من تمر أو (صاعًا) (٢) من شعير قال: (و) (٣) كان ابن عمر يعطيه (عمن) (٤) (يعول) (٥) (من نسائه) (٦) ومماليك نسائه إلا عبدين كانا مكاتبين (فإنه) (٧) لم يكن يعطي (عنهما) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقۃ الفطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو مقرر فرمایا۔ حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے خاندان کی ان عورتوں کی طرف سے صدقۃ الفطر ادا کرتے تھے جو آپ کی کفالت میں تھیں اور ان کے غلاموں کی طرف سے سوائے دو مکاتب غلاموں کے، کہ ان کی طرف سے ادا نہ فرماتے تھے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ح، ص، ز، ك]: (صاع).
(٢) في [أ، ب، ح، ص، ز، ك]: (صاع).
(٣) سقط من: [ف].
(٤) في [ح]: (عمر).
(٥) في [أ، ح، ك]: (يقول)، وفي [ب]: (يقوت).
(٦) سقط من: [أ، ص].
(٧) سقط من: [ص].
(٨) في [ص]: (عنها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10646
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٥١٢) ومسلم (٩٨٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10646، ترقيم محمد عوامة 10455)