حدیث نمبر: 10543
١٠٥٤٣ - حدثنا حماد بن خالد عن ابن أبي ذئب عن عثمان (بن أبي عثمان) (١) قال: قلت للقاسم بن محمد: إن لنا قرضًا و (٢) دينًا فنزكيه؟ قال: نعم. كانت عائشة تأمرنا (أن) (٣) نزكي ما في البحر. وسألت سالمًا، فقال مثل ذلك (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عثمان بن ابو عثمان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد سے دریافت فرمایا : میرا کچھ قرضہ معین مدت کیلئے ہے اور کچھ کا وقت معین نہیں تو کیا ہم زکوٰۃ ادا کریں اس پر ؟ آپ نے فرمایا جی ہاں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں حکم فرمایا تھا کہ جو کچھ سمندر میں ہو اس پر زکوٰۃ ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم سے بھی یہی سوال پوچھا تو آپ نے بھی اسی طرح جواب ارشاد فرمایا۔

حواشی
(١) سقط من: [ص].
(٢) في [أ، ب، ز] زيادة: (قرضًا).
(٣) سقط من: [أ، ب، ح، ص، ز].
(٤) مجهول؛ لجهالة عثمان بن أبي عثمان.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10543
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10543، ترقيم محمد عوامة 10357)