حدیث نمبر: 10542
١٠٥٤٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) هشام عن محمد عن عبيدة قال: سئل (علي) (٢) عن الرجل يكون له الدين (الظنون) (٣) (أيزكيه) (٤)؟ فقال: إن كان (صادقًا) (٥) فليزكه لما مضى إذا قبضه (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آدمی کا کسی پر قرض ہو لیکن واپسی یقینی نہ ہو تو کیا وہ اسکی زکوٰۃ ادا کرے گا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا اگر مدیون سچا ہو تو قبضہ کے بعد جتنی مدت گذر گئی ہے اسکی زکوٰۃ ادا کر دے۔

حواشی
(١) في [ص]: (أخبرنا).
(٢) سقط من: [ص].
(٣) في [ز، ح، ك]: (الظنون) وفي [ص]: (الصون).
(٤) في [ص]: (انزلته).
(٥) في [ص]: (صادفًا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10542
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10542، ترقيم محمد عوامة 10356)