حدیث نمبر: 10532
١٠٥٣٢ - حدثنا أبو بكر (١) قال: حدثنا جرير عن منصور عن (الحكم) (٢) قال: سئل علي عن الرجل (يكون له الدين على الرجل) (٣). قال: يزكيه صاحب المال، فإن (توى) (٤) ما عليه وخشي أن (لا يقضي) (٥) (فإنه) (٦) يمهل، فإذا خرج أدى زكاة (ما مضى) (٧) (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ایک شخص کا دوسرے شخص کے ذمہ قرض ہے (تو زکوٰۃ کا کیا حکم ہے ؟ ) آپ نے فرمایا جس کا مال ہے وہ زکوٰۃ ادا کرے گا۔ اگر وہ مال ہلاک ہوجائے اور اسکو خوف ہو کہ وہ ادا نہ کرے گا تو اسکو مہلت دے اور نرمی برتے، جب وہ نکال کر ادا کر دے تو جتنا عرصہ گذر گیا ہے اس کی زکوٰۃ ادا کر دے۔
حواشی
(١) في [ز] زيادة: (قال: حدثنا).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (الحسن) وفي [ح]: (الحده) وانظر: المحلى ٦/ ١٠٢.
(٣) سقط من: [ص].
(٤) في [ص]: (كان).
(٥) في [ص]: (بمطله).
(٦) في [أ، ب، س، ص، هـ]: (قال).
(٧) في [أ، ب، ط، هـ]: (ما له).
(٨) منقطع؛ الحاكم لا يروي عن علي.