حدیث نمبر: 10441
١٠٤٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن امرأتين (أتتا) (١) النبي ﷺ (و) (٢) في (أيديهما) (٣) أسورة من الذهب (فقال) (٤) لهما رسول اللَّه ﷺ: "أتحبان أن يسوركما ربكما بأسورة من نار؟ " قالتا: لا. قال (٥): "فأديا حق هذا (الذي) (٦) في أيديكما" (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو عورتیں آئیں ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : کیا تم پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) تمہیں آگ کے کنگن پہنائے ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پھر جو تم نے اپنے ہاتھوں میں پہن رکھا ہے اسکا حق (زکوٰۃ) ادا کرو۔

حواشی
(١) في [ص]: (أتيا).
(٢) سقط من: [أ، ب، ح، ز، ك].
(٣) في [أ، ب، ح]: (يديهما).
(٤) في [أ، ب]: (قال).
(٥) في [ص] زيادة: (قال).
(٦) في [أ، ب، ح، ص، ك، ز] سقطت: (الذي).
(٧) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، أخرجه أحمد (٦٦٦٧)، والترمذي (٦٣٧)، وأبو داود (١٥٦٣)، والنسائي ٥/ ٣٨، والدارقطني ٢/ ١٠٨، وعبد الرزاق (٧٠٦٥)، وابن حبان في المجروحين ٢/ ٧٣، والبيهقي ٤/ ١٤٠، وابن حزم ٦/ ٧٨، وأبو عبيد في الأموال (١٢٦٠)، وابن الجوزي في التحقيق (٩٨٣)، والبغوي (١٥٨٣).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10441
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10441، ترقيم محمد عوامة 10256)