حدیث نمبر: 10391
١٠٣٩١ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن (جريج) (١) قال: قلت لعطاء: طعام أمسكه أريد أكله، فيحول عليه الحول، قال: ليس عليك فيه صدقة، لعمري إنا لنفعل ذلك، نبتاع الطعام (وما) (٢) (نزكيه) (٣)، (فإن) (٤) كنت تريد بيعه فزكه إذا (بعته) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ : ہم کھانا اپنے پاس جمع رکھتے ہیں کھانے کی نیت سے اس پر سال گذر جاتا ہے (اس کا کیا حکم ہے) ؟ آپ نے فرمایا اس کا آپ پر زکوٰۃ نہیں ہے پھر فرمایا میری زندگی کی قسم ہم لوگ اس طرح کرتے ہیں کہ کھانا خریدتے ہیں اور اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے، جب آپ کھانا فروخت کرنے کی نیت سے خریدو تو اس پر زکوٰۃ ادا کرو۔

حواشی
(١) في [ص]: (جريح).
(٢) في [ص]: (فما) وكذلك [ز].
(٣) في [أ، ص]: (تزكيه) وفي [ب]: (يزكيه).
(٤) في [ص، ز]: (وإن).
(٥) في [ص]: (بعثه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10391
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10391، ترقيم محمد عوامة 10207)