حدیث نمبر: 10378
١٠٣٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص (بن غياث) (١) عن حجاج عن الحكم أن رسول اللَّه ﷺ بعث ساعيًا على الصدقة، فأتى العباس (يستسلفه) (٢)، فقال له العباس: إني (أسلفت) (٣) صدقة مالي (إلى) (٤) سنتين، فأتى النبي ﷺ، ⦗٢٣١⦘ (فأخبره) (٥) فقال: "صدق عمي" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوٰۃ وصول کرنے والے کو زکوٰۃ وصول کرنے کیلئے بھیجا۔ وہ حضرت عباس کے پاس آیا اور ان سے زکوٰۃ طلب کی۔ حضرت عباس نے ان سے فرمایا کہ میں تو اپنے مال کی دو سال کی زکوٰۃ پہلے ہی ادا کرچکا ہوں۔ وہ زکوٰۃ وصول کرنے والا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو یہ بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے چچا نے سچ کہا ہے “۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ص، ز، ك]: سقطت.
(٢) في [هـ]: (يتسلفه).
(٣) في [أ، ب]: (استسلفت).
(٤) في [أ، ب، ك، ز، ص] زيادة: (إلى).
(٥) سقط من: [ح، هـ].