مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما قالوا فيما يسقى سيحا ويسقى بالدلو: كيف يصدق؟ باب: ’’جس زمین کو جاری پانی (آسمان کی بارش یا چشمہ) سے سیراب کیا یا ڈولوں سے سیراب کیا جائے اس پر زکوٰۃ کس حساب سے فرض ہے‘‘
حدیث نمبر: 10371
١٠٣٧١ - حدثنا (أبو بكر) (١) قال: (حدثنا) (٢) ابن مبارك عن ابن جريج عن عطاء في الزرع يكون على (السيح) (٣) الزمان ثم يسقى (بالبئر) (٤) يعني (بالدلو وبالدالية) (٥)، قال: يصدق على أكثر ذلك (أن) (٦) يسقى به.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج سے مروی ہے کہ حضرت عطاء سے سوال کیا گیا کہ جس کھیتی کو کچھ عرصہ جاری پانی سے سیراب کیا جائے پھر اس کو کنویں سے ڈول نکال نکال کر سیراب کیا جائے تو اس زمین پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ : جس طریقہ سے زیادہ مدت سرْاب کیا گیا ہے اسی کا اعتبار ہوگا۔
حواشی
(١) في [ح]: (بياض).
(٢) في [ك]: (أخبرنا).
(٣) في [ص، ب، أ]: (السفح) وفي [هـ]: (سيح).
(٤) في [ص]: (بالنثر) وفي [ح]: (بالنير).
(٥) في [أ، ز]: (بالدالية) وفي [ب، ك]: (بالدالية) وفي [ح]: (بالدانية).
(٦) في [أ، ب]: (أو) وكذلك [ك، ح].