مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما قالوا فيما يسقى سيحا وبالدوالي باب: جس زمین کو جاری پانی اور ڈول سے سیراب کیا ہو اس پر زکوٰۃ میں جو فقہاء کہتے ہیں اس کے بیان میں
حدیث نمبر: 10356
١٠٣٥٦ - حدثنا وكيع (عن همام) (١) عن قتادة عن صالح أبي الخليل قال: سن رسول اللَّه ﷺ فيما سقت السماء (أو) (٢) العين (السائحة) (٣) (و) (٤) (ماء) (٥) (الغيل) (٦) أو كان (بعلا) (٧) العشر كاملًا، وما سقي (بالرشاء) (٨) (فنصف) (٩) العشر (١٠).مولانا محمد اویس سرور
حضرت صالح بن ابو الخلیل سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طریقہ جاری فرمایا کہ جس زمین کو آسمان کا پانی، یا جاری چشمہ، اونٹوں کے ذریعہ سیراب کیا جائے یا پھر اس زمین کو پانی کی ضرورت نہیں ہے وہ زمین کی تری سے پانی حاصل کرتی ہے ان سب پر کامل عشر ہے اور جس زمین کو رسی (ڈول) کے ذریعہ سیراب کیا جائے اس زمین پر نصف عشر ہے۔
حواشی
(١) في [ح]: بياض.
(٢) في [ص]: (و).
(٣) في [ص]: (الساتجة).
(٤) في [ب، أ]: (أو).
(٥) في [أ، ب] سقطت: (ماء).
(٦) في [ص]: (العيل).
(٧) في [ب، ح، ص]: (يعلًا) وفي [أ]: (عبلًا).
(٨) في [ب]: (بالرش) وفي [هـ] زيادة: (الحبل).
(٩) في [أ، ب، ص، ك، ح، ز] سقطت: (الحبل).