حدیث نمبر: 10351
١٠٣٥١ - حدثنا جعفر بن عون عن أسامة قال: سألت القاسم عن اللؤلؤ (١) هل فيه زكاة (أم لا) (٢)؟ فقال: ما كان منه يلبس (كالحلي) (٣) ليس لتجارة، فلا زكاة فيه، وما كان (من) (٤) ذلك للتجارة ففيه الزكاة.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اسامہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم سے ہیرے کی زکوٰۃ کے بارے میں دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ جو پہنتے ہیں جیسے زیور وغیرہ اور وہ تجارت کیلئے نہ ہو ان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ اور جو تجارت کیلئے ہو اس پر زکوٰۃ ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ك] زيادة: (و).
(٢) سقط من: [ص، ك].
(٣) في [أ، ب، ك]: (الحلي) وفي [ص]: (للحلي).
(٤) في [أ، ب، ك، ص]: (منه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10351
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10351، ترقيم محمد عوامة 10171)