حدیث نمبر: 10350
١٠٣٥٠ - حدثنا [محمد بن (بكر) (١) عن ابن (جريج) (٢) قال: قال لي عطاء] (٣): لا (صدقة) (٤) في اللؤلؤ ولا زبرجد ولا ياقوت ولا فصوص ولا عرض ولا شيء (لا يدار) (٥)؛ وإن كان شيئًا من ذلك يدار (ففيه) (٦) الصدقة في ثمنه حين (يباع) (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عطاء نے فرمایا کہ ہیرے، زبرجد (قیمتی پتھر) یاقوت، نگینہ اور سامان اور ہر وہ چیز جو گھومتی نہ ہو (تجارت میں) ان پر زکوٰۃ نہیں ہے اور جو چیز تجارت کیلئے ہو تو اسکو فروخت کرنے کے بعد اس کے ثمن پر زکوٰۃ ہے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (بكير).
(٢) في [أ، ص]: (جريح).
(٣) في [ك]: تكرر.
(٤) في [أ]: (صندفة).
(٥) في [ك]: (يداز).
(٦) في [ك]: (فقيه).
(٧) في [ص]: (بياع).