مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
(السخلة) (تحسب) على صاحب الغنم باب: بھیڑ کا بچہ کیا بکریوں کے مالک پر حساب کیا جائیگا؟
١٠٢٥٤ - حدثنا ابن عيينة عن بشر (بن) (١) عاصم (بن سفيان) (٢) عن أبيه (أن) (٣) عمر استعمل أباه على الطائف و (مخاليفها) (٤)، (وكان) (٥) يصدق (فاعتد) (٦) ⦗١٩٩⦘ عليهم بالغذاء، فقال له الناس: إن كنت (معتدًا) (٧) بالغذاء (فخذ) (٨) (منه) (٩)، فأمسك (عنهم) (١٠) حتى لقي عمر فأخبره بالذي قالوا، فقال: (اعتد) (١١) (عليهم) (١٢) (بالغذاء) (١٣) وإن جاء بها الراعي يحملها على يده، وأخبرهم أنك تدع لهم (الربى) (١٤) و (الماخض) (١٥) والأكيلة و (فحل) (١٦) الغنم و (خذ) (١٧) العناق: الجذعة والثنية، فذلك عدل بين خيار (المال) (١٨) والغذاء (١٩).حضرت بشر بن عاصم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے میرے والد کو طائف کے علاقوں میں زکوٰۃ وصول کرنے کا فریضہ سونپا، (میرے والد نے) انکی بکریوں کو چھوٹے بچوں کو ملا کر شمار کیا، لوگوں نے میرے والد سے کہا : اگر آپ زکوٰۃ وصول کرتے وقت اس چھوٹے بچے کو بھی شمار کر رہے ہیں تو پھر زکوٰۃ میں بھی اسی چھوٹے کو وصول کرلو۔ وہ رک گئے ان سے یہاں تک کہ ان کی حضرت عمر سے ملاقات ہوئی، تو انہوں نے حضرت عمر کے سامنے سارا ماجرا بیان کیا، آپ نے فرمایا : انکی بکریوں کو شمار کرتے وقت چھوٹے بچوں کو بھی ساتھ شمار کرو اگرچہ (وہ اتنا چھوٹا ہو کہ) چرواہا اس کو اپنے ہاتھوں پہ اٹھا کر لائے، اور ان کو بتادو کہ بیشک تمہارے لئے چھوٹا دودھ پیتا بچہ، حاملہ بکری، وہ بکری جس کو ذبح کرنے کی غرض موٹا اور فربہ کیا ہو اور سانڈ (نر) جانور چھوڑ دیا گیا ہے (یعنی زکوٰۃ لیتے وقت ان کا شمار نہیں ہوگا) ہاں البتہ لیا جائے گا وہ بچہ جس پر ابھی سال مکمل نہ گذرا ہو اور اسی طرح بکری کا آٹھ ماہ کا بچہ اور وہ بکری جس کے سامنے والے چار دانتوں میں سے دو ظاہر ہوگئے ہوں۔ اس طرح کرنے سے بہترین مال اور چھوٹے مال کے درمیان انصاف اور مساوات ہوجائے گی۔