حدیث نمبر: 10234
١٠٢٣٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن [(محمد) (١) (بن) (٢)] (٣) سالم عن (عامر) (٤) عن علي في صدقة الغنم (قال) (٥): (إذا) (٦) بلغت أربعين ففيها شاة إلى عشرين ومائة فإذا زادت واحدة ففيها (شاتان إلى مائتين فإذا زادت واحدة ففيها ثلاث شياه إلى) (٧) ثلاثمائة فإذا زادت على ثلاثمائة [وكثرت ففي كل مائة شاة، شاة (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علی رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ چالیس سے لیکر ایک سو بیس بکریوں تک زکوٰۃ ایک بکری ہے اور جب ایک سو بیس سے زائد ہوجائیں تو دو سو تک دو بکریاں ہیں اور پھر دو سو سے زائد ہوجائیں تو تین سو تک تین بکریاں ہیں، پھر جب تین سو سے زائد ہوجائیں تو ہر سو پر ایک بکری ہے، حضرت عبد اللہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ تین سو تک۔ پھر جب تین سو سے زائد ہوجائیں تو چار سو تک چار بکریاں ہیں۔ پھر اسی حساب سے زکوٰۃ آئے گی۔ راوی حدیث محمد فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عامر نے بتایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ متفرق کو جمع نہیں کیا جائے گا اور جمع کو متفرق نہیں کیا جائے گا۔

حواشی
(١) سقط من: [ك، ز].
(٢) في [ك، ز]: (عن).
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب، ح].
(٤) في [ح]: (جابر).
(٥) سقط من: [ص].
(٦) في [ص]: (فإذا).
(٧) سقط من: [أ، ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10234
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا، محمد بن سالم متروك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10234، ترقيم محمد عوامة 10062)