حدیث نمبر: 10207
١٠٢٠٧ - حدثنا ابن نمير عن ابن أبي ليلى عن الحكم قال: بعث النبي ﷺ معاذًا فأمره أن يأخذ من البقر من كل (١) ثلاثين تبيعًا أو تبيعة ومن كل أربعين مسنة، فسألوه عن فضل ما بينهما، (فأبى) (٢) أن (يأخذه) (٣) حتى سأل النبي ﷺ فقال: "لا تأخذ شيئًا" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاذ کو یمن بھیجا تو ان کو حکم فرمایا کہ تیس گائے پر ایک تبیع یا تبیعہ لینا اور چالیس پر ایک مسنہ، لوگوں نے سوال کیا کہ تیس اور چالیس کے درمیان جو زیادتی ہو اس پر کیا ہے ؟ آپ اس پر کچھ وصول کرنے سے رکے رہے یہاں تک کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس زیادتی پر کچھ وصول نہ کرنا۔
حواشی
(١) في [ص] زيادة: (شي).
(٢) في [ز]: (فأتى).
(٣) في [ص، ك]: (يأخذ).