١٠٢٠٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن (يحيى بن سعيد عن محمد) (١) بن يحيى بن (حبان) (٢) أن نعيم بن سلامة أخبره -وهو الذي كان (خاتم) (٣) (عمر) (٤) بن عبد العزيز في يده- أن عمر بن عبد العزيز دعا بصحيفة زعموا أن رسول اللَّه ﷺ ⦗١٨٥⦘ كتب بها إلى معاذ (فقال) (٥) نعيم: فقرأت وأنا حاضر فإذا فيها: "من كل ثلاثين (تبيع) (٦) جذع أو جذعة ومن كل أريعين بقرة (بقرة) (٧) مسنة". قال نعيم: فقلت: تبيع (الجذع) (٨) فقال عمر: (بل) (٩) تبيع جذع (١٠).حضرت محمد بن یحییٰ بن حبان فرماتے ہیں کہ نعیم بن سلامہ نے مجھے خبر دی۔ حضرت عمر بن عبد العزیز کی مہر ان کے پاس تھی، حضرت عمر بن عبد العزیز نے ایک صحیفہ منگوایا، لوگوں نے گمان کیا کہ یہ وہی صحیفہ ہے جو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ کو لکھا تھا، حضرت نعمم فرماتے ہیں وہ صحیفہ آپ کے سامنے پڑھا گیا میں بھی اس موقع پر حاضر تھا اس میں لکھا تھا : تیس گائیوں پر ایک تبیع جذع یا جذعہ ہے، اور چالیس گائیں پر ایک مسنہ ہے۔ نعیم فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا تبیع الجذع حضرت عمر نے فرمایا تبیع جذع۔