مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما يكره للمصدق من الإبل باب: ’’جو اونٹ زکوٰۃ وصول کرنے والے کیلئے لینا مکروہ ہے اس کا بیان‘‘
حدیث نمبر: 10182
١٠١٨٢ - حدثنا أبو خالد (الأحمر) (١) عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى عن القاسم أن عمر مرت به غنم (من غنم) (٢) الصدقة، فرأى فيها (شاة) (٣) ذات ⦗١٧٩⦘ ضرع، فقال: ما هذه (فقالوا) (٤): من غنم الصدقة، فقال: ما أعطى هذه أهلها وهم طائعون لا تفتنوا الناس، لا تأخذوا حرزات الناس، (نكبوا) (٥) عن الطعام (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر زکوٰۃ میں وصول شدہ بکریوں کے پاس سے گذرے تو آپ نے ایک دودھ پیتا بکری کا بچہ دیکھا، فرمایا یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا زکوٰۃ کی بکریاں ہیں، آپ نے ارشاد فرمایا : یہ نہیں دیا اس کے مالکوں نے اس حال میں کہ وہ خوش ہوں، لوگوں کو فتنہ میں مبتلا نہ کرو اور زکوٰۃ وصول کرتے وقت بہترین مال وصول نہ کیا کرو۔ اس کے کھانے سے دور رہو۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، ص، ز، ك].
(٢) في [أ، ب، ز، ك] زيادة: (من غنم)، سقط من: [هـ].
(٣) سقط من: [ص].
(٤) في [أ، ب، ح، ز، ك]: (قالوا).
(٥) في [أ، ب، هـ]: (يكبوا).
(٦) منقطع، القاسم لا يروي عن عمر، وأخرجه أبو عبيد في الأموال (١٠٨٦).