مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما يكره للمصدق من الإبل باب: ’’جو اونٹ زکوٰۃ وصول کرنے والے کیلئے لینا مکروہ ہے اس کا بیان‘‘
حدیث نمبر: 10181
١٠١٨١ - حدثنا حفص عن إسماعيل عن قيس قال: أبصر النبي ﷺ ناقة حسنة في إبل الصدقة فقال: "ما (أمر) (١) هذه الناقة"، فقال صاحب الصدقة: يا رسول اللَّه عرفت حاجتك إلى الظهر فارتجعتها ببعيرين من الصدقة (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے ایک خوبصورت اونٹ پہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر پڑی تو آپ نے فرمایا اس اونٹنی کا کیا معاملہ ہے ؟ تو زکوٰۃ وصول کرنے والے نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھے معلوم ہوا تھا کہ آپ کو سواری کی ضرورت ہے تو میں نے دو اونٹوں کے بدلے اسے لے لیا۔
حواشی
(١) زيادة (أمر) في: [ز، ص، أ، ك، ب، ح].