مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما يكره للمصدق من الإبل باب: ’’جو اونٹ زکوٰۃ وصول کرنے والے کیلئے لینا مکروہ ہے اس کا بیان‘‘
حدیث نمبر: 10179
١٠١٧٩ - حدثنا هشيم عن هلال بن (خباب) (١) عن ميسرة (٢) أبي صالح قال: (حدثنا) (٣) سويد بن (غفلة) (٤) قال: أتانا مصدق النبي ﷺ (فأتيته) (٥) فجلست إليه فسمعته يقول: "إن في عهدي: (أن لا) (٦) (آخذ) (٧) من راضع لبن، ولا نجمع ⦗١٧٨⦘ بين (مفترق) (٨) ولا (نفرق) (٩) بين مجتمع"، قال: وأتاه رجل بناقة (كوماء) (١٠) فأبى أن يأخذها (١١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زکوٰۃ کی وصول یابی کے مقرر کردہ شخص آیا۔ میں اس کے پاس بیٹھا، وہ کہہ رہا تھا کہ بیشک میں نے دودھ پینے والا جانور وصول نہیں کیا، اور متفرق کو جمع نہیں کیا جائے گا اور جمع کو متفرق نہیں کیا جائیگا۔ فرماتے ہیں کہ ایک شخص بڑے والے کو ہان والا اونٹ لیکر آیا تو اس نے لینے سے انکار کردیا۔
حواشی
(١) كذا في [أ، ب، ز]، وفي [هـ، ص، ك]: (حباب).
(٢) في [ص، هـ] زيادة: (عن).
(٣) في [ص]: (حدثني).
(٤) في [ص]: (عفلة).
(٥) في [ح]: (بياض).
(٦) في [ز، ك]: (ألا).
(٧) في [ص، ك]: (أجد).
(٨) في [هـ]: (متفرق).
(٩) في [ص]: (يفترق).
(١٠) في [ح، ك، أ، ب، ز]: (كلوماء) وفي [هـ، ص]: (كرماء).