مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما يكره للمصدق من الإبل باب: ’’جو اونٹ زکوٰۃ وصول کرنے والے کیلئے لینا مکروہ ہے اس کا بیان‘‘
حدیث نمبر: 10178
١٠١٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن مجالد عن قيس ابن أبي حازم عن (الصنابح) (١) (ابن الأعسر) (٢) (الأحمسي) (٣) قال: أبصر النبي ﷺ ناقة حسنة في إبل الصدقة فقال: "ما هذه؟ " قال صاحب الصدقة: (إني ارتجعتها) (٤) ببعيرين من حواشي الإبل قال: فقال: " (فنعم) (٥) إذن" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت صنابحی احمسی فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے ایک حسین اور خوبصورت اونٹ پر ٹھہری۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ کیا ہے ؟ زکوٰۃ وصول کرنے والے عرض کیا کہ میں نے دو چھوٹے اونٹ واپس کر کے یہ اونٹ لیا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر ٹھیک ہے۔
حواشی
(١) في [ز، ك]: (الصنابح). وفي بقية النسخ (الصنابحي).
(٢) سقطت في [أ، ب، ز، ك] وفي [هـ، ص]: (عن الأعمش).
(٣) زيادة من [ح، ك].
(٤) في [أ، ب]: (إلا أن عقها).
(٥) في [ص، هـ]: (نعم).