مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
من قال: ليس فيما دون الخمس من الإبل (صدقة) باب: بعض حضرات جو یہ فرماتے ہیں کہ پانچ اونٹوں سے کم پر زکوٰۃ نہیں ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 10170
١٠١٧٠ - حدثنا عباد بن عوام عن سفيان بن حسين عن الزهري عن سالم عن ابن عمر أن النبي ﷺ كتب كتاب الصدقة فقرنه بسيفه أو قال بوصيته فلم يخرجه حتى قبض، (فعمل به) (١) أبو بكر حتى هلك، ثم عمل به عمر حتى هلك فكان ⦗١٧٥⦘ فيه: "في الإبل (٢) إذا زادت على عشرين ومائة ففي كل خمسين حقة وفي كل أربعين بنت لبون" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوٰۃ کے بارے میں لکھا تو اسکو اپنی تلوار کیساتھ رکھ دیا یا (راوی کو شک ہے) وصیت کیساتھ اس لکھے ہوئے کو نہیں نکالا مرنے تک پھر آپ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق اس پر مرنے تک عمل کرتے رہے پھر آپ کے بعد حضرت عمر مرنے تک اس پر عمل کرتے رہے۔ اس میں لکھا ہوا تھا : اونٹ جب ایک سو سے بیس سے زائد ہوجائیں تو ہر پچاس پر ایک حقہ اور ہر چالیس پر ایک بنت لبون زکوٰۃ ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ص، ز، ك]: (عمل به).
(٢) في [ص] زيادة: (حتى).