١٠١٥٣ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن علي قال: في خمس من الإبل شاة إلى [تسع (فإن زادت واحدة ففيها شاتان إلى أربع عشرة، فإن زادت واحدة ففيها ثلاث شياه إلى تسع) (١) عشرة فإن زادت واحدة ففيها أربع إلى أربع] (٢) وعشرين، فإن زادت واحدة ففيها خمس شياه، فإن زادت واحدة ففيها بنت (مخاض) (٣) (أو) (٤) ابن لبون ذكر أكبر منها بعام إلى خمس و (ثلاثين) (٥) فإن زادت واحدة ففيها بنت لبون إلى خمس وأربعين، فإن زادت واحدة ففيها حقة طروقة الفحل إلى ستين، فإن زادت واحدة ففيها جذعة إلى خمس وسبعين، فإن زادت واحدة ففيها (بنتا) (٦) لبون إلى تسعين، فإن زادت واحدة ففيها حقتان إلى عشرين ومائة، فإذا كثرت الإبل ففي كل خمسين من الإبل حقة، ولا يجمع بين (مفترق) (٧) ولا يفرق بين مجتمع (٨).حضرت علی رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ پانچ اونٹوں پہ ایک بکری ہے نو تک، جب نو سے ایک زائد ہوجائے تو چودہ تک دو بکریاں ہیں، جب اس پر ایک زائد ہوجائے تو انیس تک تین بکریاں ہیں، اور جب انیس سے ایک زائد ہوجائے تو چوبیس تک چار بکریاں ہیں، اور اس پر ایک اونٹ زائد ہوجائے تو پانچ بکریاں ہیں، اور جب پچیس سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو اس پر بنت مخاض یا ابن لبون جو مذکر ہو اور جو اس سے ایک سال بڑا ہوتا ہے وہ دینا پڑے گا پینتیس تک، اور جب پینتیس سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو اس پر ایک بنت لبون آئے گا پینتالیس تک، اور جب پینتالیس سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو ساٹھ تک ایک طاقتور نر حقہ آئے گا، اور جب ساٹھ سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو پچھتر تک ایک جذعہ آئے گا، اور جب پچھتر سے ایک زائد ہوجائے تو نوے تک دو بنت لبون آئیں گے اور جب نوے سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو ایک سو بیس تک دو حقے آئیں گے۔ اور جب اونٹ ایک سو بیس سے بھی زائد ہوجائیں تو ہر پچاس اونٹوں پر ایک حقہ ہے جمع کو متفرق نہیں کیا جائے گا اور متفرق کو جمع نہیں کیا جائے گا۔