حدیث نمبر: 1013
١٠١٣ - حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر (قالت) (١): كنا في حجرها مع بنات ابنتها، فكانت إحدانا تطهر، ثم تصلي، ثم تنكس بالصفرة اليسيرة فتسألها فتقول: اعتزلن الصلاة ما رأيتن ذلك حتى لا ترين إلا البياض خالصًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت فاطمہ بنت المنذر کہتی ہیں کہ ہم حضرت اسماء بنت ابی بکر کی نواسیوں کے ساتھ ان کی تربیت میں تھیں۔ بعض اوقات ہم میں سے کوئی لڑکی پاک ہو کر نماز پڑھتی اور اسے تھوڑا سا زرد پانی محسوس ہوتا تو اس بارے میں ہم نے حضرت اسماء سے سوال کیا۔ انہوں نے فرمایا ” تم اس وقت تک نماز چھوڑ دو جب تک خالص سفیدی نہ دیکھو۔ “

حواشی
(١) في [جـ]: (قال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1013
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ صرح ابن إسحاق بالتحديث كما عند الدارمي، أخرجه الدارمي ١/ ٢١٤ (٨٨٩)، والبيهقي ١/ ٣٣٦، وإسحاق كما في المطالب (٢٠١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1013، ترقيم محمد عوامة 1013)