حدیث نمبر: 1011
١٠١١ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن يحيى بن سعيد قال: أرسلت إلى (رائطة) (١) مولاة عمرة، فأخبرني الرسول أنها قالت: كانت عمرة تقول للنساء: إذا أحداكن أدخلت الكرسفة (٢) فخرجت متغيرة؛ فلا تصلين حتى لا ترى شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت یحی بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے رائطہ کی طرف ایک قاصد بھیجا اس نے آکر مجھے بتایا کہ عمرہ عورتوں سے کہا کرتی تھیں کہ جب تم میں سے کوئی روئی اپنی شرم گاہ میں داخل کرے اور اس کا رنگ بدلا ہوا پائے تو اس وقت تک نماز نہ پڑھے جب تک اسے کوئی چیز دکھائی نہ دے۔

حواشی
(١) في [أ، د، ك، هـ]: (ريطة).
(٢) في حاشية [جـ]: الكرسفة القطن في أصل الوضع ولكن المراد بها هاهنا كل شيء تدخله المرأة في فرجها سواء كان قطنًا أو صوفًا أو غير ذلك من أشباه ذلك.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1011
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1011، ترقيم محمد عوامة 1011)