مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما قالوا في منع الزكاة باب: ترک زکوٰۃ پر جو وعیدیں وارد ہوئی ہیں ان کا بیان
١٠٠٩٣ - (حدثنا) (١) وكيع قال: حدثنا زكريا بن إسحاق المكي قال: (حدثني) (٢) يحيى بن عبد اللَّه بن صيفي عن أبي معبد مولى ابن عباس (عن) (٣) ابن عباس عن معاذ قال: بعثني رسول اللَّه ﷺ فقال: "إنك تأتي قومًا من أهل الكتاب فادعهم إلى شهادة أن لا إله إلا اللَّه وأني رسول اللَّه، فإن هم (أطاعوك) (٤) (بذلك) (٥) فأعلمهم أن اللَّه افترض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة، فإن هم (أطاعوك) (٦) (بذلك) (٧) فأعلمهم أن اللَّه (افترض) (٨) عليهم صدقة (في ⦗١٥٠⦘ أموالهم) (٩) (تؤخذ) (١٠) من أغنيائهم (١١) فترد (على) (١٢) فقرائهم، فإن هم (أطاعوك) (١٣) (بذلك) (١٤) (فإياك) (١٥) وكرائم أموالهم، واتق دعوة المظلوم، فإنها ليس بينها وبين (اللَّه) (١٦) حجاب" (١٧).حضرت معاذ بن جبل سے مروی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے (یمن) کی طرف بھیجا تو مجھ سے فرمایا : بیشک تیرے پاس اہل کتاب کے لوگ آئیں گے تو تم ان کو لا الہ الا اللہ کی شہادت اور میری رسالت کی دعوت دینا، اگر وہ اسکو قبول کرلیں تو ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ اسکو قبول کرلیں تو ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اموال میں ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے، ان کے مال داروں سے لینا اور ان کے فقراء پر خرچ کرنا، اگر وہ اسکو قبول کرلیں تو پس تو بچنا ان کے عمدہ اور قیمتی مال سے، اور مظلوم کی بددعا سے اپنے آپکو بچانا کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان حجاب نہیں ہوتا۔