حدیث نمبر: 10079
١٠٠٧٩ - حدثنا جرير عن منصور عن سالم عن عطية مولى (بني) (١) عامر عن يزيد بن بشر (السكسكي) (٢) (فقال) (٣): بعثه يزيد بن عبد الملك بكسوة إلى ⦗١٤٥⦘ الكعبة، فلما (أتى تيماء) (٤) (جاءه) (٥) سائل فسأل قال: فقال: تصدقوا فإن الصدقة تنجي (من) (٦) سبعين بابًا من الشر، قال: فقلت: من ها هنا (أفقه) (٧) قالوا: نسي (٨) رجل من اليهود، (فأتيت) (٩) الدار فقلت: (ثم) (١٠) نسي؟ فأشرفت علي (امرأته) (١١) فأذنت لي (فأشرفت) (١٢) عليه، فلما رآني توضأ فقلت له: ما شأنك حين رأيتني توضأت؟ قال: إن اللَّه (تعالى) (١٣) قال: يا موسى توضأ فإن لم تفعل فأصابتك مصيبة فلا تلومن إلا نفسك، قال: قلت إن سائلًا (يسأل) (١٤)؟ فقال: تصدقوا فإن الصدقة (تنجي) (١٥) من سبعين بابًا من الشر؟ قال: صدق فذكر (أشياء) (١٦) من المنايا وهدم الحائط ووقص الدابة و (الغرق) (١٧) مما شاء اللَّه مما عد من المنايا، قال: قلت و (تنجي) (١٨) من النار.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت یزید بن بشر السکسکی فرماتے ہیں کہ یزید بن عبد الملک نے مجھے ایک کپڑا دے کر کعبہ کی طرف بھیجا، جب میں مقام تیماء میں پہنچا تو ایک سائل آیا اور کہنے لگا۔ صدقہ کرو بیشک صدقہ شر کے ستر دروازوں سے انسان کو نجات دیتا ہے، میں نے پوچھا (لوگوں سے) یہاں پر سب سے بڑا فقیہ کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا نُسیّ نامی یہود میں سے ایک شخص ہے۔ میں اس کے مکان پر آیا اور آواز دی کہ نسی ہے ؟ ایک عورت نے جھانکا اور مجھے اندر داخل ہونے کی اجازت دیدی، جب اس نے مجھے دیکھا تو اس نے وضو کیا۔ میں نے اس سے پوچھا جب تو نے مجھے دیکھا تو وضو کیا، اس کی کیا وجہ ہے ؟ کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے فرمایا تھا اے موسیٰ ! وضو کیا کر اگر تو ایسا نہیں کرے گا تو تجھے بہت سی مصیبت پہنچے گی پھر تو اپنے نفس کے سوا کسی کو ملامت نہ کرنا۔ میں نے کہا کہ ایک سائل سوال کرتے ہوئے یوں کہہ رہا تھا کہ صدقہ کرو بیشک صدقہ شر کے ستر دروازوں سے انسان کو نجات دیتا ہے۔ کہنے لگا اس نے سچ کہا ہے پھر موت، دیوار کا گرنا، جانور کا ہلاک ہونا اور غرق ہونا اور بہت سی چیزوں کا ذکر کیا جو اللہ تعالیٰ چاہے جو شمار کرے موتوں میں سے، میں نے عرض کیا اور صدقہ نجات دیتا ہے جہنم کی آگ سے۔

حواشی
(١) في [ص]: (النبي).
(٢) في [ص]: (السلسلي).
(٣) في [ب، ح، ك]: (قال).
(٤) في [ص]: (أتاهما).
(٥) في [ب، ح، ص، ك]: (جاء).
(٦) في [ح]: (سقطت).
(٧) في [ص]: (أفقه) وفي [ح]: (فقيه).
(٨) في [ح] زيادة: (من).
(٩) في [أ، ب]: (أتيت).
(١٠) في [ص، هـ]: (من).
(١١) في [ح]: (جارية).
(١٢) في [ص]: (فدخلت).
(١٣) في [أ، ب، ك] سقطت: (تعالى).
(١٤) في [ص] سقطت: (يسأل).
(١٥) في [ب]: (ينجي).
(١٦) في [أ، هـ]: (شيئًا).
(١٧) في [هـ]: (العزق).
(١٨) في [ب، ك]: (ينجي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10079
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10079، ترقيم محمد عوامة 9910)