مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما جاء في الحث على الصدقة وأمرها باب: یہ باب صدقہ کی ترغیب اور اس کے حکم کے بیان میں ہے
١٠٠٧٥ - حدثنا (عمر) (١) بن سعد عن سفيان عن سلمة (بن) (٢) كهيل عن أبي الزعراء عن عبد اللَّه أن (راهبًا) (٣) عبَدَ اللَّه في صومعته ستين سنة، فجاءت امرأة فنزلت إلى جنبه، فنزل إليها فواقعها ست ليال ثم (أسقط) (٤) في يده ثم هرب، فأتى مسجدًا فأوى فيه فمكث ثلاثًا لا يطعم شيئًا، فأتي برغيف، فكسر نصفه فأعطاه رجلًا عن يمينه، وأعطى الآخر (رجلًا) (٥) عن يساره، ثم بعث إليه ملك فقبض روحه، فوضع عمل ستين (سنة) (٦) في كفة ووضعت السيئة (في أخرى) (٧) (فرجحت) (٨)، ثم جيء بالرغيف فرجح (بالسيئة) (٩) (١٠).حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ایک راہب ساٹھ سال تک اپنے عبادت خانے میں (عبادت میں مصروف) رہا، اس کے پڑوس میں ایک عورت آئی تو وہ راہب چھ راتوں تک اس کے پاس جاتا رہا پھر اپنے اس عمل کی پشیمانی کی وجہ سے وہاں سے بھاگ کر ایک مسجد میں پناہ لے لی اور تین دن تک مسجد میں کچھ کھائے پیئے بغیر رہا، (تین دن بعد) اس کے پاس ایک روٹی لائی گئی تو اس نے اس کے دو حصے کر کے آدھی دائیں جانب والے شخص کو دیدی اور آدھی روٹی بائیں جانب والے شخص کو دیدی۔ پھر ملک الموت نے آ کر اس راہب کی روح قبض کرلی اور اس کے ساٹھ سال کے اعمال ایک ترازو میں رکھے گئے اور گناہ دوسرے پلڑے میں تو وہ گناہوں والا پلڑا جھک گیا، پھر وہ روٹی لائی گئی (جو اس نے صدقہ کی تھی) اس روٹی کے رکھنے سے نیکیوں والا پلڑا گناہوں والے پلڑے سے جھک گیا۔