مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما جاء في الحث على الصدقة وأمرها باب: یہ باب صدقہ کی ترغیب اور اس کے حکم کے بیان میں ہے
حدیث نمبر: 10072
١٠٠٧٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن منصور (بن) (١) (حيان) (٢) عن (ابن) (٣) (بجاد) (٤) عن جدته قالت: قلت: يا رسول اللَّه يأتيني السائل ليس ⦗١٤٢⦘ عندي شيء أعطيه؟ (قالت) (٥): فقال: "لا تردي (سائلك) (٦) إلا بشيء ولو (بظلف) (٧) " (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن بجاد اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! بعض اوقات میرے پاس سائل آتا ہے لیکن میرے پاس اسکو دینے کیلئے کچھ بھی نہیں ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے سائل کو کچھ دیئے بغیر نہ لٹایا کر اگرچہ گائے، بکری یا ہرن کا ایک کھر (پھٹا ہوا ناخن) ہی کیوں نہ ہو۔
حواشی
(١) في [أ، هـ]: (عن).
(٢) في [أ، ب، ك]: (حبان).
(٣) في [ص]: (أبي).
(٤) هكذا الرواية وقال بعض الرواة: (بجيد)، وفي [أ، ط، هـ]: (نجاد).
(٥) في [أ، ب، ك]: (قال)، وسقط من: [ص].
(٦) في [ح، ز، هـ]: (السائل).
(٧) في [أ، ب]: (الظلف) والظلف: قدم البهيمة.