مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما جاء في الحث على الصدقة وأمرها باب: یہ باب صدقہ کی ترغیب اور اس کے حکم کے بیان میں ہے
حدیث نمبر: 10070
١٠٠٧٠ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا (داود بن قيس قال حدثنا) (١) عياض ⦗١٤١⦘ (ابن) (٢) عبد اللَّه بن سعد بن أبي سرح عن أبي سعيد (الخدري) (٣) قال: كان رسول اللَّه ﷺ يخرج يوم (العيد يوم) (٤) الفطر فيصلي بالناس تينك (الركعتين) (٥)، ثم يسلم، ثم يقوم فيستقبل الناس وهم جلوس فيقول: "تصدقوا (تصدقوا) (٦) " (٧) فكان أكثر من تصدق النساء (٨) بالقرط والخاتم والشيء (٩).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدی سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر کے دن نکلے (عید گاہ کی طرف) اور لوگوں کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ نے سلام پھیرا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کی طرف چہرہ کر کے کھڑے ہوگئے جب کہ لوگ سارے بیٹھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” صدقہ کرو، صدقہ کرو “۔ پس عورتوں نے اپنی انگوٹھیاں اور کان کی بالیاں سب سے زیادہ صدقہ کیں۔
حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [ص]: (عن).
(٣) في [ب، ص، هـ]: (الحزري).
(٤) سقط من: [ط، هـ].
(٥) في [ص]: (ركعتين).
(٦) سقط من: [ح، ك].
(٧) في [ح]: (فأكثر).
(٨) في [أ، ك] زيادة: (وهم جلوس).