حدیث نمبر: 10068
١٠٠٦٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن خيثمة عن عدي بن حاتم قال: ذكر رسول اللَّه ﷺ النار فأعرض (بوجهه) (١) وأشاح، ثم ذكر النار (فأعرض) (٢) وأشاح حتى ظننا أنه كأنما ينظر إليها ثم قال: "اتقوا النار ولو بشق تمرة فمن لم يجد فبكلمة طيبة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عدی بن حاتم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگ (جہنم) کا تذکرہ فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک پھیرا گویا کہ آپ اسے دیکھ رہے ہیں، پھر دوبارہ جہنم کا تذکرہ فرمایا اور اپنا چہرہ مبارک پھیرا گویا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، یہاں تک کہ ہمیں یقین ہوگیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہنم کو دیکھ رہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو بچاؤ اگرچہ کھجور کے ایک دانہ صدقہ کرنے سے ہو اور جو شعخص یہ بھی نہ پائے تو وہ اچھی بات کہے (بیشک اچھی بات بھی صدقہ ہے) ۔

حواشی
(١) سقط من: [ز، ح، ك].
(٢) في [أ، ب]: (وأعرض).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10068
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٦٥٤٠) ومسلم (١٠١٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10068، ترقيم محمد عوامة 9899)