حدیث نمبر: 10026
١٠٠٢٦ - حدثنا (زيد) (١) بن (الحباب) (٢) قال: حدثنا ثابت بن قيس قال: ⦗١٢٦⦘ (حدثني) (٣) أبو سعيد (المقبري) (٤) قال: حدثني أبو هريرة عن أسامة بن زيد قال: قلت: يا رسول اللَّه رأيتك تصوم في شعبان صومًا لا (تصومه) (٥) في شيء من الشهور إلا في شهر رمضان قال: "ذلك شهر يغفل الناس عنه بين رجب وشهر رمضان (ترفع) (٦) فيه أعمال الناس فأحب أن لا يرفع لي (٧) عمل إلا وأنا صائم" (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں نے آپ کو شعبان میں اتنے روزے رکھتے دیکھا کہ رمضان کے علاوہ آپ کسی مہینے میں اتنے روزے نہیں رکھتے، اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل ہیں۔ یہ رجب اور رمضان کا درمیانی مہینہ ہے۔ اس میں لوگوں کے اعمال اللہ کے دربار میں بلند کئے جاتے ہیں۔ مجھے یہ بات پسند ہے کہ جب میرے اعمال بارگاہِ الٰہی میں پیش کئے جائیں تو میرا روزہ ہو۔
حواشی
(١) في [أ، و]: (يزيد).
(٢) في [ص، ز]: (بن حباب) وفي [أ، و]: (بن الخطاب).
(٣) في [أ، و]: (حدثنا).
(٤) في [ك]: (المقري).
(٥) في [أ، ب، هـ]: (تصوم).
(٦) في [ص]: (يرفع).
(٧) زيادة في [ص]: (فيه).