المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في النذور باب: نذروں (منتوں) کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 932
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَأْتِي النَّذْرُ بِابْنِ آدَمَ بِشَيْءٍ لَمْ أَكُنْ قَدْ قَدَّرْتُهُ لَهُ ، وَلَكِنْ يُلْقِيهِ النَّذْرُ قَدْ قَدَّرْتُهُ لَهُ أَسْتَخْرِجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ يُؤْتِينِي عَلَيْهِ مَا لَمْ يَكُنْ أَتَانِي مِنْ قَبْلُ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر بن آدم کے لیے کوئی ایسی چیز نہیں لاتی، جو میں نے اس کے مقدر میں نہ لکھی ہو، بلکہ نذر سے اسے وہی چیز ہی ملتی ہے، جو میں نے اس کے مقدر میں لکھ دی ہے، نذر کے ذریعے میں بخیل سے نکلواتا ہوں، اس (نذر ماننے کی وجہ سے) مجھے وہ ایسی چیز دیتا ہے، جو پہلے نہیں دیتا۔