حدیث نمبر: 1940
ابوعبداللہ آصف
´قیس بن عباد کہتے ہیں کہ` میں نے سیدنا عمار بن یاسر سے پوچھا ( اور عمار بن یاسر جنگ صفین میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف تھے ) کہ تم نے جو لڑائی ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے ) کی ، یہ تمہاری رائے ہے یا تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں کچھ فرمایا تھا ؟ اگر رائے ہے تو رائے تو درست بھی ہوتی ہے اور غلط بھی ہوتی ہے ۔ تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے کوئی ایسی بات نہیں فرمائی جو عام لوگوں سے نہ فرمائی ہو ، اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک میری امت میں ( راوی حدیث شعبہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے انہوں نے یہ کہا تھا کہ مجھے سیدنا حذیفہ نے بیان کیا اور دوسرے راوی غندر کہتے ہیں کہ انہوں نے ” حدثنی حذیفہ “ کے الفاظ نہیں کہے ) بارہ منافق ہوں گے جو نہ جنت میں جائیں اور نہ ہی اس کی خوشبو پا سکیں گے حتیٰ کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے ۔ ان میں سے آٹھ کو تم سے ایک دبیلہ ( پھوڑا ) کافی ہو جائے گا ( یعنی ان کی موت کا سبب بنے گا ) یعنی ایک آگ کا چراغ ان کے کندھوں میں ظاہر ہو گا اور ان کے سینوں کو توڑتا ہوا نکل آئے گا ۔ ( یعنی اس پھوڑے میں ایک انگارہ ہو گا جیسے چراغ رکھ دیا ہو ، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو محفوظ رکھے ۔ آمین ) ۔