حدیث نمبر: 1811
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے کہ ایک مہاجر نے ایک انصار کی سرین پر مارا ( ہاتھ سے یا تلوار سے ) انصاری نے آواز دی کہ اے انصار دوڑو ! اور مہاجر نے آواز دی کہ اے مہاجرین دوڑو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو جاہلیت کا سا پکارنا ہے ۔ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر مارا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس بات کو چھوڑو کہ یہ گندی بات ہے ۔ یہ خبر عبداللہ بن ابی ( منافق ) کو پہنچی تو وہ بولا کہ مہاجرین نے ایسا کیا ؟ اللہ کی قسم ہم مدینہ کو لوٹیں گے تو ہم میں سے عزت والا شخص ذلیل شخص کو وہاں سے نکال دے گا ( معاذاللہ اس منافق نے اپنے آپ کو عزت والا قرار دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذلیل کہا ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! مجھے اس منافق کی گردن مارنے دیجئیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جانے دے ( اے عمر ) ! کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں ۔ ( گو وہ مردود اسی قابل تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصلحت سے اس کو سزا نہ دی ) ۔