کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: شیطان کا نمازیوں کے درمیان لڑائی کرانے کے بیان میں ۔
حدیث نمبر: 1805
ابوعبداللہ آصف
´ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو ان کے پاس سے نکلے ۔ پس مجھے غیرت آئی ( وہ یہ سمجھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور کسی بی بی کے پاس تشریف لے گئے ہیں ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور میرا حال دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ ! تجھے کیا ہوا ؟ کیا تجھے غیرت آئی ؟ میں نے کہا کہ مجھے کیا ہوا جو میری سی بی بی ( کم عمر خوبصورت ) کو آپ جیسے خاوند پر رشک نہ آئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تیرا شیطان تیرے پاس آ گیا ؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا میرے ساتھ شیطان ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ۔ میں نے کہا کہ کیا وہ ہر انسان کے ساتھ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ۔ پھر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ کے ساتھ بھی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ، لیکن میرے پروردگار نے میری مدد کی ہے حتیٰ کہ وہ میرے تابع ہو گیا ہے ۔ ( اب مجھے برائی کا حکم نہیں دیتا ) ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 1805