حدیث نمبر: 1470
ابوعبداللہ آصف
´عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ` سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا کہ کیا میں تجھے ایک جنتی عورت دکھاؤں ؟ میں نے کہا دکھلاؤ ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کالی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور بولی کہ مجھے مرگی کی بیماری ہے ، اس حالت میں میرا بدن کھل جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ سے میرے لئے دعا کیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو صبر کرے تو تیرے لئے جنت ہو گی اور اگر تو کہے تو میں دعا کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ تجھے تندرست کر دے گا ۔ وہ بولی کہ میں صبر کروں گی ۔ پھر بولی کہ میرا بدن کھل جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ میرا بدن نہ کھلے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے لئے دعا کی ( چنانچہ اس کا بدن اس حالت میں ہرگز نہ کھلتا تھا ۔ معلوم ہوا کہ بیماری اور مصیبت میں صبر کرنے کا بدلہ جنت ہے ) ۔