حدیث نمبر: 1286
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عرب کی ایک عورت کا ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابواسید کو اسے پیغام دینے کا حکم دیا ، انہوں نے پیغام دیا ، وہ آئی اور بنی ساعدہ کے قلعوں میں اتری ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور اس کے پاس تشریف لے گئے ، جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک عورت سر جھکائے ہوئے ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بات کی تو وہ بولی کہ میں اللہ تعالیٰ سے تمہاری پناہ مانگتی ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے مجھ سے اپنے آپ کو بچا لیا ( یعنی اب میں تجھ سے کچھ نہیں کہوں گا ) ۔ لوگوں نے اس سے کہا کہ تو جانتی ہے کہ یہ کون شخص ہیں ؟ اس نے کہا کہ نہیں میں نہیں جانتی ۔ لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور سلام ہو ، وہ تجھ سے نکاح کی بات چیت کرنے کو تشریف لائے تھے ۔ وہ بولی کہ میں بدقسمت تھی ( جب تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پناہ مانگی ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ منگنی کرنے والے کو عورت کی طرف دیکھنا درست ہے ) سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن آ کر سقیفہ بنی ساعدہ میں اپنے ساتھیوں کے سمیت تشریف فرما ہوئے پھر سہل سے کہا کہ ہمیں پلاؤ ۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے یہ پیالا نکالا اور سب کو پلایا ۔ ابوحازم نے کہا کہ سیدنا سہل نے وہ پیالا نکالا اور ہم نے بھی ( برکت کے لئے ) اس میں پیا پھر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ( اپنے زمانہ خلافت میں ) وہ پیالہ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سے مانگا تو انہوں نے ہبہ کر دیا ۔