حدیث نمبر: 1208
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا عبدالرحمن بن شماسہ کہتے ہیں کہ` میں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس کچھ پوچھنے کو آیا ، تو انہوں نے کہا کہ تو کون سے لوگوں میں سے ہے ؟ میں نے کہا کہ مصر والوں میں سے ۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے حاکم کا تمہاری اس لڑائی میں کیا حال ہے ؟ ( یعنی محمد بن ابی بکر کا جن کو سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ نے قیس بن سعد کو معزول کر کے مصر کا حاکم کیا تھا ) میں نے کہا کہ ہم نے تو ان کی کوئی بات بری نہیں دیکھی ، ہم میں سے کسی کا اونٹ مر جاتا ، تو اس کو اونٹ دیتے اور غلام فوت ہو جاتا تو ، غلام دیتے اور خرچ کی احتیاج ہوتی ، تو خرچ دیتے ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ میرے بھائی کا جو حال ہوا ( کہ مارا گیا اور لاش مرداروں میں پھینکی گئی پھر جلائی گئی ) یہ مجھے اس امر کے بیان کرنے سے نہیں روکتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حجرہ میں فرمایا کہ اے اللہ ! جو کوئی میری امت کا حاکم ہو ، پھر وہ ان پر سختی کرے ، تو تو بھی اس پر سختی کر اور جو کوئی میری امت کا حاکم ہو اور وہ ان پر نرمی کرے ، تو بھی اس پر نرمی کر ۔