کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: اجتہاد کی بنا پر قاتل کو ( دشمن مقتول ) کا سامان نہ دینا ۔
حدیث نمبر: 1143
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` حمیر ( قبیلہ حمیر ) کے ایک شخص نے دشمنوں میں سے ایک شخص کو مارا اور اس کا سامان لینا چاہا لیکن سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ( جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ) لشکر کے سردار تھے نے نہ دیا ۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حال بیان کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم نے اس کو سامان کیوں نہ دیا ؟ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ سامان بہت زیادہ تھا ( تو میں نے وہ سب دینا مناسب نہ جانا ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ سامان اس کو دیدے ۔ پھر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ ، سیدنا عوف رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے ، تو سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے ان کی چادر کھینچتے ہوئے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ، آخر وہی ہوا نا ( یعنی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو شرمندہ کیا کہ آخر تمہیں سامان دینا پڑا ) یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لی اور غضبناک ہو کر فرمایا : اے خالد ! اس کو مت دے اے خالد ! اس کو مت دے ۔ کیا تم میرے سرداروں کو چھوڑنے والے ہو ؟ تمہاری اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے اونٹ یا بکریاں چرانے کو لیں ، پھر ان کو چرایا اور ان کی پیاس کا وقت دیکھ کر حوض پر لایا ، تو انہوں نے پینا شروع کیا ۔ پھر صاف صاف پی گئیں اور تلچھٹ چھوڑ دیا ، تو صاف ( یعنی اچھی باتیں ) تو تمہارے لئے اور بری باتیں سرداروں پر ہیں ( یعنی بدنامی اور مواخذہ ان سے ہو ) ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 1143