کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: انفال ( مال غنیمت ) کے بارے میں ۔
حدیث نمبر: 1138
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا مصعب بن سعد اپنے والد سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ` انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں چار آیتیں اتریں ۔ ایک مرتبہ ایک تلوار مجھے مال غنیمت میں ملی ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا کہ یا رسول اللہ ! یہ مجھے عنایت فرمائیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو رکھ دے ۔ پھر میں کھڑا ہوا تو ( وہی کہا ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو جہاں سے لیا ہے وہیں رکھ دے ۔ پھر اٹھے اور کہا کہ یا رسول اللہ ! یہ تلوار مجھے دے دیجئیے ۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو رکھ دو ۔ پھر ( چوتھی مرتبہ ) کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ ! یہ تلوار مجھے مال غنیمت کے طور پر دے دیجئیے کیا میں اس شخص کی طرح رہوں گا جو نادار ہے ؟ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو وہیں رکھ دے جہاں سے تو نے اس کو لیا ہے ۔ تب یہ آیت اتری کہ ” اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے مال غنیمت کے متعلق پوچھتے ہیں ، تو آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) فرما دیجئیے کہ مال غنیمت ، اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہیں “ ( الانفال : 1 ) ۔ ( اس حدیث میں چار آیات میں سے صرف ایک آیت کا ذکر ہے ) ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 1138