حدیث نمبر: 948
ابوعبداللہ آصف
´مالک بن اوس بن حدثان سے روایت ہے کہتے ہیں کہ` میں یہ کہتا ہوا آیا کہ سونے کے بدلے روپوں کو کون بیچتا ہے ؟ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ نے کہا اور وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اپنا سونا مجھے دے پھر ٹھہر کر آنا ۔ جب ہمارا نوکر آئے گا تو تیری قیمت دے دیں گے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہرگز نہیں ، تو اس کے روپے اسی وقت دیدے یا اس کا سونا واپس کر دے ۔ اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : کہ چاندی کو سونے کے بدلے بیچنا سود ہے مگر ( یہ کہ ) دست بدست ( ہو ) اور گندم کا گندم کے بدلے بیچنا سود ہے مگر ( یہ کہ ) دست بدست ( ہو ) اور ” جو “ کا ” جو “ کے بدلے بیچنا سود ہے مگر ( یہ کہ ) دست بدست ( ہو ) اور کھجور کا کھجور کے بدلے بیچنا سود ہے مگر ( یہ کہ ) دست بدست ( ہو ) ۔