کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: ہر شہر ( ملک ) کے لئے ان لوگوں کی رؤیت ہے ۔
حدیث نمبر: 578
ابوعبداللہ آصف
´کریب کہتے ہیں کہ` سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انہیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس ( ملک ) شام بھیجا ۔ انہوں نے کہا کہ میں شام گیا اور ان کا کام کر دیا اور میں نے جمعہ ( یعنی پنجشنبہ کی شام ) کی شب کو رمضان کا چاند دیکھا ۔ پھر مہینے کے آخر میں مدینہ آیا ۔ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا اور چاند کا ذکر کیا کہ تم نے کب دیکھا ؟ میں نے کہا کہ جمعہ کی شب کو ۔ انہوں نے کہا کہ تم نے خود دیکھا ؟ میں نے کہا ہاں اور لوگوں نے بھی دیکھا اور روزہ رکھا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اور لوگوں نے بھی ، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم نے تو ہفتہ کی شب کو دیکھا اور ہم پورے تیس روزے رکھیں گے یا چاند دیکھ لیں گے ۔ تو میں نے کہا کہ آپ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ( چاند ) دیکھنا اور ان کا روزہ رکھنا کافی نہیں جانتے ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی حکم کیا ہے ۔ اور یحییٰ بن یحییٰ کو شک ہے کہ حدیث میں ” نکتفی “ کا لفظ ہے یا ” تکتفی “ کا ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 578