کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: دنیا کی زینت سے نکلنے کا بیان ۔
حدیث نمبر: 566
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں میں وعظ کیا اور فرمایا کہ اے لوگو ! اللہ کی قسم ، میں تمہارے لئے کسی اور چیز سے نہیں ڈرتا ہوں مگر اس سے جو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے دینا کی زینت نکالتا ہے ۔ تو ایک شخص نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خیر کا نتیجہ شر بھی ہوتا ہے ؟ ( یعنی دنیا کی دولت اور حکومت کا ہونا اور اسلام کی ترقی ہونا تو خیر ہے ، اس کا نتیجہ برا کیونکر ہو گا ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر چپ ہو رہے ۔ پھر فرمایا کہ تم نے کیا کہا ؟ ( پھر اس کے سوال کو پوچھ لیا کہ کہیں بھول نہ گیا ہو تو مطابقت جواب کی سوال کے ساتھ اس کی سمجھ میں نہ آئے ) اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خیر کا نتیجہ شر بھی ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں خیر کا نتیجہ تو خیر ہی ہوتا ہے ۔ کیا یہ خیر ہے ؟ ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ یہ تو امتحان اور آزمائش ہے اور امتحان اور آزمائش میں خیر کہاں ہوتی ہے ۔ پھر مثال دے کر سمجھایا کہ موسم بہار میں جو سبزہ اگتا ہے ، وہ سبزہ جانور کو ہلاک کر دیتا ہے سوا ان جانوروں کے جو صرف سبزہ ( ضرورت کے مطابق ) کھاتے ہیں ۔ وہ اس قدر کھا لیتے ہیں یہاں تک کہ ان کی کوکھیں پھول جاتی ہیں ۔ پھر دھوپ میں آ کر لید یا پیشاب کرتے ہیں ، جگالی کرتے ہیں اور پھر جا کر چرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ پس جو شخص تو مال حق کے ساتھ لیتا ہے ، تو اس میں اس کے لئے برکت ڈال دی جاتی ہے ۔ اور جو شخص ناحق لے گا ، اس کی مثال اس جانور کی مثال ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا ( اور اپنی ہلاکت کا ساماں پیدا کر لیتا ہے ) ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 566