کتب حدیث ›
مختصر صحيح مسلم › ابواب
› باب: جو غلام ( نوکر ) اپنے مالک کے مال سے خرچ کرے ، اس کا بیان ۔
حدیث نمبر: 553
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا عمیر جو سیدنا ابی اللحم رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، کہتے ہیں کہ` مجھے میرے مالک ( ابی اللحم ) نے گوشت سکھانے کا حکم دیا ۔ ایک فقیر آ گیا تو میں نے اسے کھانے کے موافق دے دیا ۔ جب مالک کو خبر ہوئی تو انہوں نے مجھے مارا ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ( سبحان اللہ آپ یتیموں اور بیواؤں اور مظلوموں کی امان تھے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا کہ تو نے اسے کیوں مارا ؟ انہوں نے کہا کہ یہ میرا کھانا میرے حکم کے بغیر دے دیتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( اس خیرات کا ) تم دونوں کو ثواب ہے ۔
حدیث نمبر: 554
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی عورت ( نفل ) روزہ نہ رکھے جبکہ اس کا شوہر گھر میں موجود ہو مگر اس کی اجازت سے ( رکھے ) اور نہ اس کے گھر میں کسی ( اپنے محرم ) کو آنے دے جب وہ گھر پر ہو مگر اس کی اجازت سے ( پھر جب وہ حاضر نہ ہو تو بدرجہ اولیٰ اس کے حکم اور رضا کے جو پہلے سے معلوم ہو چکی ہو ، کسی کو آنے نہ دینا چاہئیے ) اور اس کی کمائی سے اس کی اجازت کے بغیر جو کچھ خرچ کرتی ہے تو اس میں بھی اس کے مرد کو آدھا ثواب ہے ( یعنی مرد کو کمانے کا اور عورت کو دینے کا ) ۔