حدیث نمبر: 547
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک شخص نے کہا کہ میں آج کی رات کچھ صدقہ دوں گا ۔ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا ( یہ صدقہ کو چھپانا منظور تھا کہ رات کو لے کر نکلا ) اور ایک زناکار عورت کے ہاتھ میں دیدیا ۔ پھر صبح کو لوگ چرچا کرنے لگے کہ آج کی رات ایک شخص زناکار عورت کے ہاتھ صدقہ دے گیا ۔ اس نے کہا کہ اے اللہ ! سب خوبیاں تیرے لئے ہیں کہ میرا صدقہ زناکار کو جا پڑا ۔ پھر اس نے کہا کہ آج اور صدقہ دوں گا ۔ پھر نکلا اور ایک غنی مالدار کو دیدیا ۔ اور لوگ صبح کو چرچا کرنے لگے کہ آج کوئی مالدار کو صدقہ دے گیا ۔ اس نے کہا کہ اے اللہ ! سب خوبیاں تیرے لئے ہیں میرا صدقہ مالدار کے ہاتھ جا پڑا ۔ تیسرے دن پھر اس نے کہا کہ میں صدقہ دوں گا ۔ اور وہ نکلا اور صدقہ ایک چور کے ہاتھ میں دیدیا ۔ صبح کو لوگ چرچا کرنے لگے کہ آج کوئی چور کو صدقہ دے گیا ۔ اس نے کہا کہ اے اللہ ! سب خوبیاں تیرے ہی لئے ہیں کہ میرا صدقہ زناکار عورت ، مالدار شخص اور چور کے ہاتھ میں جا پڑا ۔ پھر اس کے پاس ایک شخص آیا ( یعنی فرشتہ یا اس زمانہ کے نبی علیہ السلام ) اور اس سے کہا کہ تیرے سب صدقے قبول ہو گئے ۔ زناکار کا تو اس لئے کہ شاید وہ اس زنا سے باز رہی ہو ( اس لئے کہ پیٹ کے لئے زنا کرتی تھی ) رہا غنی تو اس کا اس لئے قبول ہوا کہ شاید اسے شرم آئے اور عبرت ہو کہ اور لوگ صدقہ دیتے ہیں تو میں بھی دوں ۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے مال میں سے خرچ کرے ۔ اور چور کا اس لئے کہ شاید وہ چوری سے باز آ جائے ( اس لئے کہ آج کا خرچ تو آ گیا ) ۔