کتب حدیثمختصر صحيح مسلمابوابباب: ضرورت مندوں پر صدقہ کرنے کی ترغیب اور اچھا طریقہ جاری کرنے والے کا ثواب ۔
حدیث نمبر: 533
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` دن کے شروع حصہ میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ۔ کچھ لوگ آئے جو ننگے پیر ، ننگے بدن ، گلے میں چمڑے کی چادریں پہنی ہوئیں ، اپنی تلواریں لٹکائی ہوئیں ، اکثر بلکہ سب ان میں قبیلہ مضر کے لوگ تھے ۔ ان کے فقر و فاقہ کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک بدل گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر آ گئے پھر باہر آئے ۔ ( یعنی پریشان ہو گئے ، سبحان اللہ کیا شفقت تھی اور کیسی ہمدردی تھی ) اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ اذان کہو پھر تکبیر کہی اور نماز پڑھی اور خطبہ پڑھا اور یہ آیت پڑھی کہ اے لوگو ! اللہ سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے بنایا ( اس لئے پڑھی کہ معلوم ہو کہ سارے بنی آدم آپس میں بھائی بھائی ہیں ) ........ آخر آیت تک ۔ پھر سورۃ الحشر کی یہ آیت پڑھی کہ ” اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور غور کرو کہ تم نے اپنی جانوں کے لئے آگے کیا بھیج رکھا ہے جو کل ( قیامت کے دن تمہارے ) کام آئے ۔ ( پھر صدقات کا بازار گرم ہو گیا ) کسی نے اشرفی دی ، کسی نے درہم کسی نے ایک صاع گیہوں اور کسی نے ایک صاع کھجور دینا شروع کی ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک ٹکڑا بھی کھجور کا ہو ( تو وہ بھی بطور صدقہ کے لاؤ ) ۔ پھر انصار میں سے ایک شخص تھیلی لایا کہ اس کا ہاتھ تھکا جاتا تھا بلکہ تھک گیا تھا ۔ پھر تو لوگوں نے تار باندھ لیا یہاں تک کہ میں نے دو ڈھیر دیکھے کھانے اور کپڑے کے یہاں تک ( صدقات جمع ہوئے ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو میں دیکھتا تھا کہ چمکنے لگا تھا گویا کہ سونے کا ہو گیا ہو جیسے کندن ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اسلام کی نیک کام کی ابتداء کرے ( یعنی کتاب و سنت کی بات ) اس کے لئے اپنے عمل کا بھی ثواب ہے اور جو لوگ اس کے بعد عمل کریں ( اس کی دیکھا دیکھی ) ان کا بھی ثواب ہے بغیر اس کے کہ ان لوگوں کا کچھ ثواب گھٹے ۔ اور جس نے اسلام میں آ کر بری چال ڈالی ( یعنی جس سے کتاب و سنت نے روکا ہے ) تو اس کے اوپر اس کے عمل کا بھی بار ہے اور ان لوگوں کا بھی جو اس کے بعد عمل کریں بغیر اس کے کہ ان لوگوں کا کچھ بار گھٹے ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 533