کتب حدیث ›
مختصر صحيح مسلم › ابواب
› باب: ان ایک جیسی سورتوں کے متعلق جن میں سے دو سورتیں ایک رکعت میں پڑھے گا ۔
حدیث نمبر: 396
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابووائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم ایک دن فجر کی نماز پڑھ کر صبح صبح عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے گھر گئے ۔ پس ہم نے دروازے پر کھڑے ہو کر سلام کہا تو ہمیں اجازت دیدی گئی ۔ ابووائل کہتے ہیں کہ ہم تھوڑی دیر دروازے پر ٹھہرے رہے تو ایک بچی نکلی ۔ کہنے لگی کہ آپ اندر داخل کیوں نہیں ہوتے ؟ چنانچہ ہم اندر داخل ہو گئے تو دیکھا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما بیٹھے تسبیح پڑھ رہے تھے ، فرمانے لگے کہ جب تمہیں اجازت دیدی گئی تھی تو تمہیں اندر داخل ہونے سے کس چیز نے روکا ؟ ہم نے کہا اور کچھ نہیں ہم نے خیال کیا کہ آپ کے بعض گھر والے سوئے ہوں گے ۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرمانے لگے کہ تم نے ابن ام عبد کے اہل خانہ کو غافل خیال کیا ہے ؟ پھر وہ تسبیح میں مشغول ہو گئے یہاں تک کہ انہوں نے گمان کیا کہ سورج نکل آیا ہے ۔ آپ نے بچی سے کہا دیکھو سورج نکل آیا ہے ؟ ابووائل کہتے ہیں پس اس نے دیکھ کر کہا کہ نہیں ابھی سورج طلوع نہیں ہوا ۔ وہ پھر تسبیح میں مشغول ہو گئے یہاں تک کہ انہوں نے گمان کیا کہ سورج نکل آیا ہے ۔ آپ نے پھر بچی سے کہا ، دیکھو سورج نکل آیا ہے ؟ تو اس نے دیکھ کر کہا ، جی ہاں سورج طلوع ہو چکا ہے تو فرمانے لگے کہ تمام تعریف اللہ رب العالمین کیلئے ہے جس نے معاف کر دیا ہم کو ہمارے اس دن میں ۔ مہدی کہتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا ” اور ہمیں ہمارے گناہوں کے سبب ہلاک نہیں کیا “ ۔ تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے آج کی رات ساری کی ساری مفصل سورتیں پڑھی ہیں ۔ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا ھذا کھذ الشعر تم نے ایسے پڑھا جیسا کوئی شعر پڑھتا ہے ۔ ہم نے البتہ قرائن کو سنا ہے اور مجھے وہ قرائن یاد ہیں جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے ۔ وہ اٹھارہ سورتیں مفصل کی اور دو سورتیں آل حم سے ہیں ۔ ( قرائن سے وہ سورتیں مراد ہیں جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو دو سورتیں ملا کر ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے )