حدیث نمبر: 355
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر کی قرآت سے فارغ ہو جاتے تو ( دوسری رکعت میں ) سرمبارک رکوع سے اٹھاتے اور فرماتے کہ ” سمع اللہ لمن حمدہ ، اے ہمارے رب ! سب تعریف تیرے ہی لئے ہے “ پھر کھڑے ہی کھڑے کہتے کہ ” اے اللہ ! ولید بن ولید ، سلمہ بن ہشام کو اور عیاش بن ابی ربیعہ کو ( یہ سب مسلمان کفار کے ہاتھوں میں تھے ) اور مومنوں میں سے ضعیف لوگوں ( یعنی جو مکہ والوں کے ہاتھ میں دبے پڑے تھے ) کو نجات دے ۔ یا اللہ ( قبیلہ ) مضر پر اپنی پکڑ سخت کر ۔ اور ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانہ کی طرح کا قحط ڈال دے ( جیسے مصر میں سات برس واقع ہوا تھا ) یا اللہ لعنت کر لحیان ، رعل ، ذکوان اور عصیہ پر ( جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ) ۔ پھر ہمیں خبر پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بددعا چھوڑ دی ۔ جب یہ آیت اتری کہ ” اے نبی ! تم کو اس کام میں کچھ اختیار نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے اور چاہے تو انہیں عذاب کرے ، کیونکہ وہ ظالم ہیں “ ۔