حدیث نمبر: 289
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے پھر اپنی قوم میں آ کر ان کی امامت کرتے ۔ وہ ایک رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھ کر آئے پھر اپنی قوم کی امامت کی اور سورۃ البقرہ شروع کر دی ۔ ایک شخص نے منہ موڑ کر سلام پھیر دیا اور اکیلے نماز پڑھ کر چلا گیا ۔ لوگوں نے کہا کہ کیا تو منافق ہو گیا ہے ؟ ۔ وہ بولا کہ اللہ کی قسم میں منافق نہیں ہوں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور آپ سے کہوں گا ۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم اونٹوں والے ہیں ( دن بھر اونٹوں سے پانی نکالتے ہیں ) اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھ کر آئے اور سورۃ البقرہ شروع کر دی ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اے معاذ ! کیا تو فسادی ہے ؟ ( جو لوگوں کو یہ یہ سورت پڑھا کر نفرت دلانا چاہتا ہے اور فتنہ کھڑا کرتا ہے ) ۔ فلاں فلاں سورت پڑھو ۔ سفیان نے کہا کہ میں نے عمرو سے کہا کہ ابوزبیر نے سیدنا جابر سے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا کہ والشمس وضحٰہا ، والضّحٰی ، واللّیل اذا یغشٰی ، سبّح اسم ربّک الاعلیٰ پڑھا کر ۔ عمرو نے کہا کہ ان جیسی سورتیں پڑھا کر ۔