حدیث نمبر: 282
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے کہ اتنے میں ایک آدمی آیا ، اس نے نماز پڑھنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ جاؤ نماز پڑھو ، تم نے نماز نہیں پڑھی ۔ اس نے واپس ہو کر پہلے کی طرح پھر نماز پڑھی اور لوٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعلیکم السلام کہتے ہوئے فرمایا کہ جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز ادا نہیں کی ۔ حتیٰ کہ تین دفعہ ایسے ہی کیا تو آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول برحق بنایا ہے کہ میں اس طریقہ کے علاوہ مزید کسی چیز سے ناواقف ہوں ، براہ کرم آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی مجھے بتا دیجئیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو پہلے اللہ اکبر کہو اور پھر جتنا قرآن تم بآسانی پڑھ سکتے ہو وہ پڑھو ، اس کے بعد اطمینان سے رکوع کرو اور پھر باآرام بالکل سیدھے کھڑے ہو جاؤ ، اس کے بعد بااطمینان سجدہ کرو اور پھر بااطمینان قعدہ میں بیٹھو اور اسی طرح اپنی پوری نماز میں کیا کرو ۔ ( اس حدیث سے یہ چیز معلوم ہوئی کہ نماز میں تعدیل ارکان بہت ضروری ہے ، اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی ۔ اور جمہور علماء کے نزدیک تعدیل ارکان فرض ہے ) ۔