حدیث نمبر: 583
ابوعبداللہ آصف

´سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب یہ آیت اتری کہ ” کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ممتاز نہ ہو جائے “ { البقرہ : 178 } تو آدمی جب روزہ رکھنے کا ارادہ کرتا تو دو دھاگے اپنے پیر میں باندھ لیتا ، ایک سفید اور دوسرا سیاہ اور کھاتا پیتا رہتا یہاں تک کہ اس کو دیکھنے میں کالے اور سفید کا فرق معلوم ہونے لگتا ۔ تب اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد ” فجر سے “ کا لفظ اتارا ، تب لوگوں کو معلوم ہوا کہ دھاگوں سے مراد رات اور دن ہے ۔

حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 583